ٰہارون ملک

زندگی

آج جو باتیں میں آپ سے کرنا چاہتا ہُوں یہ عام لوگوں کے لیے ہیں ، یہ باتیں میں اُن دوستوں کے لیے لِکھنا چاہتا ہُوں جو اپنی زِندگی ، لائیف سٹائیل یا آمدنی سے مُطمئن نہیں ، گو وقتاً فوقتاً میں پہلے بھی اپنی ناقص سمجھ بُوجھ اور محدُود ذاتی تجربے سے آپ کے لیے یہ سب لِکھتا رہا ہُوں اور آئندہ بھی اِس پر بات ہوتی رہے گی ۔ میں سوشل میڈیا پر بعض لوگوں کی پوسٹس دیکھتا ہُوں جِس میں غُربت کی باتیں ہوتی ہیں ، کِسی بیمار کے پاس دوا کے لیے پیسے نہیں تو کوئی مہنگائی سے پریشان ہے ۔

ظاہر ہے یہ مسائل ایک خاص کلاس سے نیچے ہر بندہ فیس کرتا ہے اور اِس کی پریشانی بھی سہتا ہے ، ریاست کی ذمہ داری کیا ہے اور وُہ کیا کررہی ہے کیا نہیں ، اِس پر میرا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ہماری ریاست اگر بالکل ناکام نہیں تو بھی بہرحال اپنے شہریوں کے مسائل سے بڑی حد تک لاپرواہ ضرور ہے ، کُچھ وسائل کی کمی ، کُچھ آبادی کا بڑھتا جِن تو کُچھ سیاسی و جمہوری مسائل مِل کر پاکستان کو ایک اچھی فلاحی ریاست بننے سے روکے ہُوئے ہیں ۔

مزید براں یہ باتیں اُن کے لیے زیادہ مُفید ہیں جو اپنی خانگی زندگی میں آ گئے ہیں اور اب اُن کے لیے نئے سِرے سے جدید ٹیکنالوجی ، کمپیوٹر یا سوفٹ ویئر کی تعلیم حاصل کرنا آسان نہیں ہے ورنہ یہ بڑے کام کی تعلیم ہے جو آنے والے مُستقبل میں لمبے عرصے تک ویلڈ رہے گی باقی ہمارا نِظامِ تعلیم بھی تو مکھی پر مکھی مارنا ہی سِکھا رہا ہے ، کیا کریں ۔

بہرحال یہ مسائل حل کرنے نہ آپ کے بَس میں ہیں نہ میرے ، ہم سب اِس پر بات ہی کرسکتے ہیں اور کرتے رہتے ہیں لیکن معذرت کے ساتھ ایک عام آدمی کا مسئلہ پھر بھی عمران خان صاحب ، نواز شریف صاحب ، زرداری صاحب یا کوئی جنرل نہیں ہے بلکہ اُس کو اپنے لیے بُنیادی سُہولیات یعنی بجلی ، پانی ، گیس تعلیم بہترین روزگار اور تحفظ درکار ہوتا ہے ۔ تعلیم جو اُس کو کم از کم میٹرک ، ایف اے تک معیاری اور مُفت مِلے ، ہسپتال میں ڈاکٹرز کی موجودگی اور مِلاوٹ سے پاک دوائیں مُہیا ہوں ، بجلی کی بِلا تعطل سپلائی ، صاف پانی وغیرہ اُس کو مِلنا چاہئیے اور ریاست اپنے آئین میں ایک شہری کو یہ سب دینے کا وعدہ بھی کرتی ہے جو وُہ مُہیا نہیں کررہی یا بوجوہ مُہیا نہیں کر پارہی بہرحال دونوں صُورتوں میں مسائل کا شِکار عام لوگ ہوتے ہیں جو اِس مُلک کا نوے فیصد سے زائد طبقہ ہے ۔ ( اِس نوے فیصد کو آپ میرا اندازہ کہہ لیں ، یہ بات میں فی الحال بِناتحقیق کررہا ہُوں ) ۔ اب حل کیا ہے ؟ مہنگائی ، کم تنخواہیں ، بڑھتے مسائل ! کیا کِیا جائے ؟

دیکھیں کتابی باتیں جانے دیں کہ کتابی باتیں عملی زِندگی میں ہر جگہ کام نہیں آتیں ، اکانومی کا فارمولا ایک طرف کریں جو طلب اور رسد کا آپس میں معکوس تناسب بتاتا ہے کہ جُوں جُوں طلب بڑھتی ہے تُوں تُوں رسد میں کمی آتی ہے اور نتیجہ سب کے سامنے ۔ اب آپ یہ دیکھیں کہ ایک خاص طبقے سے اُوپر جب چلے جاتے ہیں ، ( آمدن کے حساب سے ) تو یہ تمام مسائل نہ سہی لیکن روزِمرہ کے ایسے بیشتر مسائل پھر آپ کے لیے نہیں ہوتے ۔ ٹماٹر ہزار روپے کلو ہوجائے آپ کو فکر نہیں ہوتی کہ استعمال کرنے ہیں تو قیمت کُچھ معنی نہیں رکھتی ، بجلی نہیں تو مہنگے جنریٹرز زندہ باد یا آپ بحریہ ٹاؤن یا ڈیفینس کے جزیروں میں رہتے ہیں تو وہاں حالات بھی بہتر ہیں لیکن اب پاکستان کی سب آبادی تو ڈیفینس یا بحریہ ٹاؤن میں نہیں رہتی تو باقی کیا کریں ؟ مُنہ دیکھیں ؟

اب میں آتا ہُوں سیدھا مسئلے کی حل کی طرف ، دیکھیے ایک بات سمجھئے نہ سب کے مسائل حل ہوسکتے ہیں نہ ہی سب اپنے اپنے دائرے سے باہر نِکلنے کی ہمت کرپاتے ہیں بہرحال میری چند گُزارشات پر غور کیجیے گا شاید کِسی کا بھلا ہوسکے ۔

آپ مہنگائی سے پریشان ہیں ، بچے کی اچھی تعلیم کے لیے پیسے کم پڑ رہے ہیں یا بیماری کی صُورت میں اچھے پرائیویٹ ہسپتال جانے کی گُنجائش نہیں ہے تو خُود سے سوال کریں کہ آپ کہاں غلطی کررہے ہیں ؟

فرض کرتے ہیں کہ آپ ایک سُکول ٹیچر ہیں ، کلرک ہیں ، یا کوئی بھی سرکاری یا پرائیویٹ نوکری کرتے ہیں اور آپ شام کے وقت چند گھنٹے مزید نکال سکتے ہیں تو آپ اپنے حالات بہتر کرسکتے ہیں بس ذرا “ بھئی یہ کام مُناسب نہیں ، لوگ کیا کہیں گے ؟ “ جیسی سوچ کو گُڈبائے کہنا ہوگا ۔

پنڈی ، لاہور یا کِسی بڑے شہروں میں رہنے والے اپنے مصروف کاروباری علاقوں میں شام کے وقت معمولی سرمایہ کاری پچیس تیس ہزار روپے سے پتلون کے بیلٹس ، ٹوپیاں ، بُنیانیں ، شرٹس سردیوں میں جرسیاں وغیرہ بیچ کر اِن چند گھنٹوں کی بدولت ماہانہ تیس سے پچاس ہزار روپے اپنی آمدنی میں اضافہ کرسکتے ہیں ۔ پوپ کون ( مکئی کے دانے ) ، سوپ کا ٹھیا لگایا جاسکتا ہے ، اگر چند لاکھ روپے نکال سکیں تو کِسی فُوڈ مارکیٹ میں ایک چھوٹے سے کارنر سے شُروعات کریں ، برگر بنائیں ، چکن یا بیف شوارما بنا کر بیچیں ، صُبح کے اوقات میں اخبار یا رسائل بیچے جاسکتے ہیں گو میرا مُشاہدہ ہے کہ یہ اخبار والا کام اب رِہ گیا ہے ۔

گرمیوں میں گنے ، گاجر ، آم وغیرہ کے جُوسز بیچے جاسکتے ہیں تو سردیوں میں ایسے ہی دیگر لوازمات ۔ کوئی ہُنر سیکھ لیں ، گاڑیوں کی مُرمت کا کام ، کِسی میڈیکل سٹور کے لیے ڈیلیوریز یعنی ادویات پُہنچانے کا ذمہ ، کِسی اور مصروف سٹور سے رابطہ کرکے کوئی بیرونی کام یعنی اُن کو کہیں سے مال لانا ہو یا ایسے ہی سو طرح کے کام موجود ہوتے ہیں جو شاید بلکہ یقیناً آپ کرسکتے ہیں ۔پڑھے لکھے ہیں تو کِسی اکیڈمی میں جو مضمون آپ کو اچھا آتا ہو اُس کی کلاسز لِیا کریں ، اون لائین آج کل کئی طرح کے کام ہیں جو آپ کرسکتے ہیں ، اگر زیادہ دقیانوسی سوچ نہیں اور کِسی شہر میں رہائش پذیر ہیں تو اپنے گھر کے چند میل کے علاقے میں ایڈورٹائیز کریں کہ آپ دفاتر میں ، دُکانوں میں یا جہاں لوگ کام کررہے ہیں اُن کو گھر کا بنا کھانا سستے داموں مُہیا کرسکتے ہیں ۔

اگر آپ نے شُروع میں دس گاہک بھی بنا لیے جو کہ آپ ذرا سی کوشش سے بنا سکتے ہیں تو دس بندوں کا ایک وقت کا کھانا آپ کو مہینے میں کتنے پیسے دے گا اِس کا حساب خُود لگا لیں اور اگر آپ کا کھانا اچھا ہُوا اور آپ نے معیاری کھانا بنایا تو آپ کا کاروبار بڑھتا جائے گا اور ظاہر ہے اِنکم بھی ۔ ( کل ایک خاص سیاسی جماعت کی محبت میں گوڈے گوڈے ڈُوبے سیاسی تجزیہ کار کہہ رہے تھے جِس کو یہ تجزیہ غلط لگ رہا ہے وُہ سردیوں میں چکن سوپ بیچے ، یعنی یہ کام اُن کے نزدیک بُہت حقیر ہے ۔ )

یہ بالکل رَف کام ہیں لیکن اُن کے لیے کہہ رہا ہُوں جو اپنے مسائل سے تھک رہے ہیں ۔ آپ کی محنت کرنے کی عُمر پچاس سال سے پہلے تک ہے اِس کے بعد نہیں ویسے تو چالیس سال کہنا چاہئیے لیکن چلیں ہمارے مُلک کے اعتبار اور مسائل کے انبار کے حساب سے پچاس کرلیں ۔ اِن کاموں میں فالتو وقت میں کریم پر ٹیکسی چلانا ، موٹر سائیکل رائیڈ بھی شامل ہے ۔ جو کام آپ کو بتائے ہیں اِن کے لیے کِسی لمبی چوڑی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں بس آپ کو اپنی جُھوٹی اَنا کو قُربان کرنا ہوگا ۔

دوستو سُوٹ ( پینٹ کوٹ ) اور بابو والی سوچ سے باہر آئیں اور اپنے مسائل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُن سے پنجہ آزمائی کریں ۔ اِن تمام باتوں کے ساتھ ساتھ اپنے اُوپر فالتو بوجھ لادنا بند کریں اور دیکھیں کہ آپ کے کون سے اخراجات ایسے ہیں جو آپ ختم یا کم کرسکتے ہیں ۔ ویسے میں خُود اِس فارمولے پر یقین نہیں رکھتا کیونکہ میرا ماننا ہے یہ زِندگی ایک بار مِلی ہے اِس کو خُوب دِل سے انجوائے کریں ، اپنی ہر مُمکن خواہش کے حصول کو مُمکن بنائیں اور اپنی آمدنی بڑھانے کے بارے میں سوچیں کیونکہ آپ مہنگائی نہیں کم کرسکتے ، مسائل کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں تو پھر آپ کی آمدنی بھی بڑھنی چاہئیے ۔

ایک ضروری بات کسی کی حکومت ، کسی سیاستدان کی بیماری ، جمہوریت کے مسائل ، سیاست کے مسائل سے پہلے آپ کے گھر کے مسائل ہیں اُن پر توجہ دیں ، اُن کو بہتر کریں ۔ دوبارہ کہہ دیتا ہُوں کہ بُہت سارے کام ریاست کے کرنے کے ہوتے ہیں جو وُہ نہیں کررہی لیکن ایک فلاحی ریاست بھی آپ کو امیر نہیں بنا سکتی اُس کے لئے کٹھن راستے پر چلنے اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور آخری بات وُہی کہ رزقِ حلال میں کیسی شرم ؟

تحریر ہارون ملک

اپنا تبصرہ بھیجیں