صحت

بِنا آپریشن : بوٹوکس علاج

یہ عمل گہری لکیروں، جُھریوں جیسا کے ابروؤں کے ،پیشانی کے، پاؤں کےتیوری کے بل میں بوٹیولینیم ٹاکسن اے انجکشن لگانے سے کیا جاتا ہے۔ یہ تمام پٹھوں کے سُکڑنے سے ہوتی ہیں۔ بوٹوکس کِچھاؤ کو کم کرتا ہے جس سے جُھریاں کم ہوتی ہیں۔ تین ہی دِنوں میں مریض کو مطلوبہ نتائج حاصل ہو جاتے ہیں۔ بوٹوکس کے انجکشن کے فوائد عارضی طور پر ہوتے ہیں۔ جسکی وجہ سے باقاعدگی سے دوبارہ انجیکشن کی ضرورت پڑتی رہتی ہے، عا م طور پر پہلے عرصے میں ہر چھے ماہ کے بعد انجکشن کی ضرورت پڑتی ہے۔
بوٹوکس مندرجہ ذیل کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

١۔ ابروؤں کے درمیاں تیوری کے بل۔
٢۔ پیشانی پر جُھریاں۔
٣۔ آنکھوں اور پاؤں کے اردگرد جُھریاں۔

۔ فِلر اینڈ فیٹ انجکشن
ہونٹ مزید بھرے ہوئے بنائے جا سکتے ہیں، چہرے پر مختلف لکیریں چہرے کو نرم دِکھانے کے لیےمختلف چیزوں سے بنائی جا سکتی ہیں۔
لیباریٹری کی بنی ہوئی مصنوعات جیسا کہ کولیجن وغیرہ موجود ہیں۔ ان کا فائدہ یہ ہے کے یہ فوری طور پر دستیاب ہوتی ہیں، اور ان کے ساتھ کسی آپریشن کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن یہ کُچھ مہینوں سے زیادہ نہیں رہتیں۔

دیگرانتخابات میں جسم کے دوسرے حصوں سے چربی یا جِلد ہٹا کر چہرے یا ہونٹوں کی تہوں میں منتقل کرنا ہے۔ اِن عوامل کو تراش کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ بعض اوقات عطا کنندہ پر دھبے چھوڑ جاتے ہیں لیکن چھے سے اٹھارہ مہینے تک ختم ہو جاتے ہیں۔ نئے فِلر کی مصنوعات مثلاَ حیلالورن اور ریسٹائلین بہترین ثابت ہو رہی ہیں ہیں کیونکہ یہ فوری طور پر دستیاب ہیں اور ان کو کسی عطا کنندہ کی
ضرورت نہیں ہوتی۔

معالجین سالوں سے بوٹوکس کی مدد سے جھریوں اور چہرے کی لکیروں کا کامیاب علاج کر رہے ہیں۔ بوٹوکس ایک دوا کا تجارتی نام ہے۔ یہ دوا ایک بیکٹیریا سے حاصل ہونے والے زہر سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ زہر ادویات میں اور کاسمیٹک انڈسٹری میں بہت سے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ بوٹوکس اعصاب پر اثر کرنے والا زہر ہے۔ اس زہر کی سات قسمیں ہیں جو مختلف خصوصیات کی حامل ہیں اور ان کے استعمال کے مقاصد بھی مختلف ہیں۔|

بوٹوکس کیسے کام کرتا ہے؟

بوٹوکس اعصابی نظام پر اثر کرتا ہے اور پٹھوں تک اعصاب سے آنے والے پیغامات نہیں پہنچنے دیتا جس کی وجہ سے چہرے کے پٹھے پر سکون ہو جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ ان کی فعالیت بڑھ جاتی ہے۔ بوٹوکس کا اثر دو سے سات دن کے درمیان میں نظر آنے لگتا ہے ۔ متاثرہ جگہ ہموار ہونے لگتی ہے اور جھریاں رفتہ رفتہ کم ہو کر ختم ہونے لگتی ہیں۔ ادویہ کے مقابلے میں بوٹوکس انجکشن زیادہ تیز اثر اور کامیاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل مرد و خواتین ادویہ کے مقابلے میں بوٹوکس انجکشن کو زیادہ ترجیح دے رہے
ہیں۔

بوٹوکس کے فوائد

۔ یہ انجکشن چہرے کی جھریوں کو دور کر کے رعنائی اور خوبصورتی بخشتا ہے۔ اس کے استعمال سے ۔ ۔ چہرے پر نظر آنے والے بڑھتی عمر کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں اور آپ پھر سے دلکش اور حسین دکھنے لگتے ہیں۔

۔ بوٹوکس کو زیادہ تر ماتھے پر پڑنے والی لکیروں اور آنکھوں کے گرد نظر آنے والی لکیروں کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
۔ اس کو بھنوؤں کی درمیانی جگہ پر پڑ جانے والے بل ختم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
۔ سورج کی روشنی یا کشش ثقل کے باعث پڑنے والی جھریاں بوٹوکس کے استعمال سے ختم نہیں ہوتی۔بوٹوکس کو ہونٹوں کے قریب پڑنے والی لکیریں ختم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
۔ اس کے علاوہ ٹھوڑی اور گردن کی جھریاں ختم کرنے میں بھی بوٹوکس مؤثر ترین انتخاب ہے۔

بوٹوکس کے استعمال کا کیا طریقہ ہے؟

بوٹوکس لگوانے کا عمل انتہائی مختصر اور سادہ ہے۔ اس کو لگوانے لے لیے متاثرہ جگہ کو سن کروانا بھی ضروری نہیں ہے۔ ایک انتہائی باریک ٹیکے کے ذریعے بوٹوکس کو ان پٹھوں میں لگایا جاتا ہے جہاں جھریاں موجود ہوں۔ اس سلسلے میں ہونے والی تکلیف بھی بہت کم اور قابل برداشت ہوتی ہے۔ بوٹوکس تین سے سات دن میں اپنا اثر دکھاتا ہے۔ اس کے استعمال سے پہلے اور دوران ان باتوں کا خیال رکھیے۔

۔ اگر کوئی فرد ایسپرین یا آبوپروفین کھا رہا ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ انجکشن والی جگہ پر چوٹ یا رگڑ کا نشان پیدا ہو جائے اور اس مقام سے خون رسنے لگے۔ دراصل یہ ادویہ خون کو پتلا اور بہاؤ میں تیزی پیدا کرتی ہیں، اس لیے خون رسنے کا امکان ہوتا ہے۔ اگر کوئی بوٹوکس انجکشن لگوانا چاہے تو اسے چاہیے کہ دو ہفتے پہلے ان ادویات کا استعمال روک دے۔

۔ اگر کوئی فرد مچھلی کے تیل کے کیپسول یا حیاتین ھ (وٹامن ای) کھا رہا ہے تو اس کو چاہیے کہ انجکشن لگوانے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کر لے۔

۔ اس انجکشن کے لگوانے کے کم از کم ایک ہفتہ بعد تک نشہ آور ادویات کا استعمال بھی روکے رکھنا ضروری ہے۔

۔ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں بھی یہ انجکشن لگوانے سے پرہیز کریں۔ اگر انجکشن لگوانا ضروری ہو تو معالج سے مشورہ ضرور کر لیں۔

۔ بوٹوکس لگوانے سے قبل جلد کے ماہر سے مشورہ کر لیں کیونکہ وہ جلد کے تمام مسائل کو آپ سے بہتر سمجھ سکتا ہے۔

بوٹوکس انجکشن کا اثر کتنے عرصے تک رہتا ہے؟

اس انجکشن کا اثر چار سے چھ ماہ تک رہتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ پٹھوں میں پھر سے کھچاؤ پیدا ہونے لگتا ہے اور جھریاں پھر سے نمودار ہو سکتی ہیں لیکن یہ جھریاں پہلے کی نسبت کم ہوتی ہیں۔ بوٹوکس کا اثر فرد کی جلد پر بھی منحصر ہے کیونکہ یر انسان کی جلد مختلف ہوتی ہے، لہذا اس کے اثرات میں بھی فرق ہوتا ہے۔ بوٹوکس دوبارہ لگوانے کا فیصلہ فرد پر منحصر ہے۔

بوٹوکس کے پہلوئی اثرات

بوٹوکس کے پہلوئی اثرات بھی ہیں جن میں پٹھوں کا مفلوج ہونا، چہرے کا فالج، سر کادرد، نگلنے میں دشواری اور حساسیت شامل ہیں۔

اس کے علاوہ انجکشن کی جگہ پر سرخی، درد، سوزش اور تعدیہ بھی ہو سکتا ہے۔

آنکھوں کی سرخی ، پتلیوں کا ڈھلک جانا اور آنکھوں کی خشکی بھی بوٹوکس کے پہلوئی اثرات میں شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں