بائک

. ستر سی سی ٹڈی دَل

یقیناً شیطان صاحب کے بھی دو پہیے ہوں گے. یہ پہلا خیال ہے جو ہمیں موٹر سائیکل دیکھ کر آتا ہے. سارا قصور موٹر سائیکل کے موجد کا ہے. کمبخت کی ہئیت ہی ایسی بنائی کہ شاید بیٹھتے ہی سوار کی کوئی دماغ کی کوئی نس دب جاتی ہے اور وہ پھر کچھ بھی سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہتا. بس صرف بے ہنگم طریقہ سے موٹرسائیکل چلانا یاد رہتا ہے. جنگ عظیم دوم تو ہم نے نہیں دیکھی مگر یہ پڑھتے ہوئے حیرت ضرور ہوتی تھی کہ کچھ دستے موٹرسائیکلوں پر بھی دشمن پر حملہ آور ہوتے تھے. موٹرسائیکل پرمحوجنگ خدایا . پھر نونہالان وطن کو موٹرسائیکل چلاتے دیکھ لیا.

کچھ نہ کچھ گڑبڑ توہے اس سواری میں. لیکن جانتے نہیں کہ کیا. اور اس بات کی تصدیق اس بچے نے بھی کردی. ہوا یوں کہ اس روز ہم ایک بڑے سٹور کے سامنے سے گذر رہے تھے کہ ایک تین چار سال کا بچہ ایک گری ہوئی موٹرسائیکل کے نیچے پھنسا چیخ رہا تھا. جھٹ سے موٹرسائیکل کو اٹھایا اور بچے کو نکالا، پیار کیا کچھ حواس بحال ہوئے تو ہچکیاں لیتے ہوئے کہنے لگا. انکل یہ بہت خراب ہے میں نے اسے کچھ بھی نہیں کیا یہ خودہی میرے اوپر گری ہے.

لیکن پھر بھی آخر اس ہیجان کی کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ جس کا سامنا اس کے تقریباً ہر سوار کو کرنا پڑتا ہے. ہم نے ایک روز مایوس دقیانوسی سے پوچھا. دیکھو بھئی یہ جو بھوت پریت ہوتے ہیں نا. ان کو بہت برا لگتا ہے کہ کوئی ان کی نقل اتارے. کیا مطلب ہم نے حیرانی سے پوچھا. کہنے لگے کہ دیکھ بھائی بھوتوں کو لوہے کی اشیاء عام طور پر دکھائی نہیں دیتا. جب انسان موٹرسائیکل پر سوار ہوتا ہے تو ان کو لگتا ہے دونوں ہاتھ آگے کرکے ٹانگوں اور جسم سے الٹا ‘چار’ کا ہندسہ بنا یہ ہماری نقل اتار رہا ہے. بس پھر وہ اس کے سر میں حلول کرجاتا ہے.ذہن کا کنٹرول سنبھال لیتا ہے، لہٰذا دوران سفر موٹرسائیکل سوار سڑک پرجو بھی آڑھی ترچھی فارمنس دیتا ہے یہ ساری اس بھوت کے زیر انتظام ہی ہوتی ہے. ہاں کچھ اللہ کے نیک بندے ان کی دسترس سے بچے رہتے ہیں اور یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو بائیں طرف محتاط طریقہ سے موٹرسائیکل چلا رہے ہوتے ہیں. بڑی دور کی کوڑی لائے. ہم نے طنزیہ کہا. تمہیں تو پتہ ہے نزدیک کی کوڑی ہمیں زہر لگتی ہے.انہوں نے شرمندہ ہوئے جواب دیا.

ایک تقریب میں ایک بہت زیرک ٹریفک وارڈن ہمارے ہاتھ لگے. ہم نے دیرینہ مسئلہ چھیڑدیا. “حضور یہ موٹرسائیکل سورا حضرات آپ کے قابو میں کیوں نہیں آتے. گھر سے نکلیں. تو لگتا ہے شہر پر ستر سی سی ٹڈی دل کا حملہ ہوا ہے. کسی گلی بازار میں دو لمحہ کیلئے ٹریفک رکے تو موٹرسائیکلیں دائیں بائیں سے آکر ایسے آپکی گاڑی کے گرد جمع ہوجاتی ہیں جیسے کارکن چیونٹیاں مردہ شکار پر حملہ آور ہوتی ہیں. کہنے لگے بھئی ہم تو بے بس ہیں اس بےمہار عفریت کے سامنے. ہفتہ خوش اخلاقی بھی منا کردیکھا.اور مہینہ بداخلاقی بھی. تربیتی کیمپ بھی لگائے، چالان جرمانے اور سختی بھی کرلی. یہ سدھرنے کے نہیں.

عمومی تجربہ تو ہمارا بھی یہی ہے مگر ایک روز ان عاصی نگاہوں نے عجب منظر دیکھا. ایک بڑی شاہراہ پر سب کے سب موٹر سائیکل سوار انتہائی بائیں جانب ترتیب اور توازن سے ایک قطار میں جارہے تھے. یقین نہیں ہوتا تھا کہ وطن عزیزمیں ہی ہیں. مارے تجسس کے قطار کے ساتھ ساتھ چلتے آگے گئے کہ معلوم توہو آخر کس پیر کے مرید ہیں جو اس قدر سلیقہ شعار ہیں، کیا دیکھتے ہیں کہ قطار کے سرے پر ایک عمر رسیدہ موٹر سائیکل سوار کے پیچھے ایک شوخ وچنچل حسینہ خوش رو، کج ادا، قطعی فرنگی پیراہن میں ملبوس اٹھکھیلیاں کرتے جارہی ہے اور سب سوار شوقِ دیداروالتفات میں قطار اندر قطاراس کی اقتدا میں ہیں.کیا کہنے ایسی پیشوائی عصر حاضر میں بس حسن والوں کو ہی نصیب ہے. یا جنازوں کو.

لیکن ہمارے ہاتھ یہ نسخہ کیمیاء آگیا ہے. بس سرکار کو چاہیے کہ شہر بھر میں سو موٹرسائیکل سوار مشاہرے پر رکھے. ان کے پیچھے خوبصورت نسوانی مجسمے، جنہوں نے لباس افرنگی زیب تن کر رکھا ہو، نصب کروائے اور شہر بھر کی بڑی سڑکوں پر چھوڑ دے. انشاءاللہ اس کے بعد سب موٹرسائیکل سواران شرافت کے ساتھ انتہائی بائیں جانب چلا کریں گے. مجسمہ حسن کے پیچھے پیچھے.

قابل خرگوشوی مگر ہمیشہ مثبت سوچتے ہیں. فرماتے ہیں بھئی کیا برائی ہے اس میں. اس نادرونایاب ایجاد کے اعجازتو دیکھو. تاریخ پر جارہے دو مختلف الجنس نوجوان ہم جماعتوں کو جس قدر لگاؤ اور التزام موٹرسائیکل پر میسر آتا ہے بیچارے جون ایلیا اور نظیر الہہ آبادی کو تو شب وصال بھی نصیب نہ ہوتا ہوگا. عرض کیا حضوروہ آپ نے سنا ہے نا محبت اور جنگ میں سب جائز ہے، تو مشاہدہ ہمارا بھی یہی ہے کہ اس کمبخت محبت کی جنگ پر جارہے ہر جوڑے کے پچھلے سپاہی کی تمام توپوں کا رخ بجائے دشمن اگلے سپاہی کی جانب ہوتا ہے اوردونوں
پیوستہ رہ شجر ‘میں’ امید بہار رکھ کی عملی تصویر بنے ہوتے ہیں. کہنے لگے سوچتا ہوں کہ اگر محبت کی جنگ کے یہ سپاہی اسی ‘خطرناک عسکری چال’ کا مظاہرہ کسی پارک وارک میں بنچ ونچ پر بیٹھ کرکررہے ہوں تو تیسرے لمحے ہی نقص امن میں دھر لیے جائیں.

ویسے اگر چند لمحے نکال کر غور کریں تو جان لیں گے کہ دنیا بھر میں شہریوں کو ذرائع آمدورفت فراہم کرنا سرکار کا کام ہوتا ہے. جب کہ ہماری حکومتیں بدعنوانی، عفلت اور دیگر نااہلیوں کے باعث اس کی فراہمی میں بری طرح ناکام ہوئیں، لوگوں کو بے رحم نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور ویگنوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا جہاں وہ بھیڑ بکریوں کی طرح سفر کرنے پر مجبور تھے سو انہوں موٹر سائیکل کی صورت میں سستا اور باعزت حل تلاش کیا. خطہ میں کسی بھی ملک کی ٹریفک میں موٹرسائیکلوں کا تناسب اسقدر نہیں جتنا ہمارے ہاں ہے اور اس کی وجہ وہی کہ وہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی حالت اسقدر دگرگوں نہیں جتنی ہمارے ہاں ہے. لیکن پھر بھی اس میں بہتری آسکتی ہے. معاشرتی علوم میں ٹریفک کے مضامین پڑھائے جائیں. لائسنس بنواتے وقت جوانوں کو تربیت دی جائے. اپنے فرائض اور لوگوں کے حقوق باور کروائے جائیں. اور جرمانوں کی شرح میں اضافہ کرکے ہم اس بےہنگم عفریت کو کسی حد تک قابو میں لاسکتے ہیں.

( ابن فاضل)

اپنا تبصرہ بھیجیں