کراچی

فلپائن، چاول، کراچی اور کچرا

فلپائن میں دو کلو پلاسٹک کے بدلے ایک کلو چاول دینے کی انوکھی سکیم موجود ہے۔

چونکہ فلپائن میں ہر 5 میں سے 1 شخص غربت کا شکار ہے اور ترقی پذیر ملک ہونے کے ناتے یہاں پہ پلاسٹک کا کچرا بہت زیادہ ہے، اس لئے ایک مقامی حکومت نے ایک ایسی سکیم متعارف کروائی ہے جس کے تحت آپ دو کلو کچرا لا کر ایک کلو چاول لے جا سکتے ہیں۔
چاول جن کی قیمت 0.70 ڈالر یا پھر 105 روپے ہے، ہر شہری کو کچرے کے بدلے دئیے جا رہے ہیں۔

پلاسٹک کی آلودگی ہمارے ماحول کے لئے زہرِ قاتل ہے۔ ہم بس اپنا گھر صاف رکھنا چاہتے ہیں مگر باہر گلی میں ہم گندگی کے ہونے یا نا ہونے کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ لیکن فلپائن کی حکومت کا یہ قدم پلاسٹک کی آلودگی کو ختم کرنے میں ایک سنگِ میل ثابت ہو گا۔
پلاسٹک کا کچرا خودبخود تلف / Degrade ہونے میں 10 سے 1000 سال لیتا ہے۔ اور اسکی روز مرہ کی پیداوار اتنی زیادہ ہے کہ اگر یہی رفتار رہی تو کچھ عرصے تک ہمارا پورا سیارہ کچرا کنڈی کا منظر پیش کرنے لگ جائے گا۔ لیکن ہم اس کچرے کو تلف کر کے بجلی بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ اس وقت بہت سے ترقی یافتہ ملک کچرے سے بجلی پیدا کرکے جہاں ماحولیاتی آلودگی کم کر رہے ہیں وہیں یہ بجلی بھی پیدا کر رہے ہیں۔

ہمارے کراچی میں کچرے کی بہت بری صورتحال ہے۔ یہ انتظامی غفلت تو ہے ہی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ معاشرتی غفلت بھی ہے۔ کراچی میں پڑا یہ کچرا، ملین ڈالر انڈسٹری کی بنیاد ہو سکتا ہے۔ اس وقت ڈنمارک اور سویڈن بجلی بنانے کے لئے کچرا امپورٹ کررہے ہیں۔ تو کراچی جہاں پہلے سے ہی اتنا کچرا موجود ہے، وہاں اتنی بڑی انڈسٹری کا آغاز کیوں نہیں ہو سکتا؟ جہاں کراچی ویسٹ مینجمنٹ کو منظم کرنے سے نئی نوکریاں پیدا ہونگیں تو وہیں کراچی بجلی کی پیدوار میں بھی خود کفیل ہو سکتا ہے۔

ہمارے سامنے فلپائن کی مثال ہے جو کہ کچرے کے بدلے چاول اپنی معشیت میں سرکولیٹ کر رہا ہے۔ اس بات کے نتیجے میں جہاں ان کے کسانوں کا فائدہ ہو رہا ہے وہیں حکومت کچرے سے بجلی پیدا کرنے جیسے منصوبے بنا کر بجلی کی قلت پہ بھی قابو پا سکے گی۔ اور ماحول بھی صاف ہو سکے گا۔

عام طور پہ ہمیں یہ پراجیکٹ صرف ایک پہلو سے دکھائی دیتے ہیں لیکن درحقیقت ان کے دُورس نتائج ہیں۔ فقط کراچی کا کچرا کراچی کو بجلی دینے کے ساتھ ساتھ نوکریاں، ہزاروں ڈالر کی آمدن اور صاف ماحول دے سکتا ہے۔ لیکن ہمیں عمل کی ضرورت ہے۔

تحریر

ضیغم قدیر

اپنا تبصرہ بھیجیں